مسجد قبلتین جہاں قبلہ کا رخ

 یقینا'' تبدیل ہوا پر اسکی اصل حقیقت کیا ہے ؟

( جاننے کے لیے پڑھیں )

===============================.


مدینہ منورہ میں مسجد قبلتین وہ مسجد ہے جہاں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نماز کی امامت فرما رہے تھے اور دوران نماز تبدیلی قبلہ کے احکام نازل ہوئے۔ عربی زبان میں جب کسی اسم کے آگے '' تین'' TAYN
کا اضافہ کر دیتے ہیں تو اس کا مفھوم '' دو '' کا ہو جاتا ہے ٠ جیسے ''مینار'' کے معنی '' ایک مینار '' اور مینارتیں کے معنی '' دو مینار '' - اسی طرح '' مسجد قبلتین '' کے معنی '' دو قبلوں '' والی مسجد - کیوں کہ اس مقام پر تحویل قبلہ کا حکم عین حالت نماز میں آیا تھا یعنی رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم اس مقام پر نماز ظہر کی دو رکعات قبلہ اول یعنی '' بیت المقدس '' کی جانب رخ کر کے امامت فرما چکے تھے کہ حالت نماز میں الله سبحان و تعالی کی وحی آئی کہ

'' مسجد الحرام کی طرف رخ پھیر دو۔ تم جہاں کہیں بھی ہو، اسی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھا کرو''

تو گویا اسی نماز میں آپ نے بقیہ دو رکعات حالت نماز میں رہتے ہوے صفوں کو چیرتے ہوے مخالف سمت آکر پڑھی اور تمام صحابہ اکرم اپنی اپنی جگہ کھڑے رہتے ہوے اپنے قدموں پر گھوم گیے جس سے اس نماز میں یہ روح پرور منظر دیکھنے کو ملا کہ پہلی صف آخری صف کی شکل اختیار کر گئی اور آخری صف پہلی صف بن گئی - اس عظیم واقعہ کے تناظر میں اس مقام پر بننے والی مسجد ''مسجد قبلتین '' کھلائی یعنی '' دو قبلوں '' والی مسجد -

آج بھی اس مسجد میں جو اصل محراب موجود ہے وہ ظاہر ہے مسجد الحرام کی جانب ہے لیکن اس محراب کو اگر اپنی پشت پر رکھ کر سامنے والی اس دیوار کے صدر دروازے کے اوپر دیکھا جایے جو آج کل مسجد کے ہال کا داخلی دروازہ ہے تو اسپر تمثیلا'' ایک جانماز کی شکل کا '' مصلی '' نما بنا ہوا ہے جو آج کے اصل قبلے کے بالکل مقابل ہے اور قبلہ اول '' بیت المقدس '' کے رخ کی نشان دہی کر رہا ہے جو ظاہر ہے اب باطل قبلہ ہے - میں نے آج کی اھلا'' تصویر میں مسجد قبلتین کے ہال میں بننے اسی باطل قبلہ کی نشان دہی کرنے والے '' مصلی '' کی تصویر آپکی خدمت میں پیش کی ہے -

یہ تو بات صرف تصویر کی حد تک تھی جسے مسجد قبلتین کی زیارت کرنے والوں نے ضرور دیکھا ہوگا لیکن شاید کم کو ہی یہ علم ہو کہ مسجد الحرام یعنی
'' کعبہ مشرفہ '' . '' بیت المقدس '' سے پہلے بھی انسانوں کا قبلہ تھا اور ہمیشہ سے قبلہ رہا لیکن الله سبحان و تعالی نے مومنین کے راسخ العقیدہ ہونے اور منافقین کے دلوں کے نقص جاننے کے لیے ایسا کیا کہ کچھ عرصے کے لیے '' بیت المقدس '' کو قبلہ قرار سے دیا -

حکم ربی تھا لہٰذا رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم مدینہ ہجرت کے بعد تقریبا'' سولہ مہینے ' بیت المقدس '' کی جانب رخ کر کر نمازیں ادا کرتے رہے لیکن آپ صلی الله علیہ وسلم کی آرزو تھی کہ قبلہ '' کعبہ مشرفہ '' ہی قرار پایے- اسلئے آپ صلی الله علیہ وسلم بار بار آسمان کی جانب نگاہیں اٹھاتے اور دل دل میں اسکی دعا بھی کرتے - آپکی یہ ادا رب تعالی کو شاید بہت محبوب تھی ، جبھی تو دیکھے کہ الله سبحان و تعالی حالات نماز میں کن الفاظ میں اپنے محبوب کی ادا کا ذکر کرتے ہوے آپ صلی الله علیہ وسلم کو قبلہ تبدیل کرنے کا حکم دیتے ہیں - کتنی الفت اور محبت بھرا انداز ہے رب تعالی کا - ملا حظہ فرمائیں سوره بقرہ کی آیت ١٤٤

'' ے شک ہم آپ کے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں، سو ہم آپ کو اس قبلہ کی طرف پھیر دیتے ہیں جسے آپ پسند کرتے ہیں، پس اب اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیجیئے، اور جہاں کہیں تم ہوا کرو اپنے مونہوں کو اسی کی طرف پھیر لیا کرو،'' (سوره بقرہ کی آیت ١٤٤ )

people pointing out upwards refused qibla. present mahrab may
be seen on back of people.


This wall shows the place of mehrab  (place of standing of imam)

facing towards masjid Aqsa...First Qibla

Pligrims reading verses  of change of qibla. this wall is no more in

masjid qiblatain now. it was there till year 2000.

جو کچھ میں نے اوپر ذکر کیا اسکا مختصرا'' جائزہ نیچے پڑھیں :-

جب حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم مدینہ میں ہجرت کرکے تشریف فرما ہوئے تو میثاق مدینہ کے مطابق مدینہ کے تمام مسلم و غیر مسلم باشندوں نے آپ کو اپنا حکمران تسلیم کر لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک امت ہونے کا شعور پیدا کرنے کے لئے ہمیں ایک قبلے کی طرف منہ کرکے نماز کی ادائیگی کا حکم دیا ۔

سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کو اپنی پوری امت کا قبلہ مقرر کیا تھا۔ بنی اسماعیل ہمیشہ اس سے وابستہ رہے ۔ بنی اسرائیل بھی شروع میں اسی کی طرف منہ کرکے نماز اور قربانی کا اہتمام کرتے رہے۔ تورات میں تفصیل سے خیمہ عبادت کا ڈیزائن بتایا گیا ہے اور اس کا رخ جنوب یعنی کعبہ کی طرف تھا۔ جب سیدنا سلیمان علیہ السلام نے یروشلم میں بیت المقدس کی مسجد تعمیر فرمائی تو اس کے کچھ عرصے بعد بنی اسرائیل نے اسے اپنا قبلہ قرار دے دیا -

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بعثت کے وقت ذریت ابراہیم کی دونوں شاخیں اپنے اپنے قبلے کی طرف منہ کرکے عبادت کرتے تھے اور اس کے بارے میں شدید نوعیت کے تعصب میں مبتلا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں اقوام کے وہ افراد جو حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی پیروی پر متفق ہو چکے تھے، کی آزمائش کے لئے مدینہ ہجرت کے بعد کچھ عرصے کے لئے بیت المقدس کو مسلمانوں کا قبلہ مقرر کیا۔ اس سے بنی اسماعیل کے تعصب پر ضرب پڑی لیکن ثابت قدم قریشی صحابہ نے اللہ کے حکم کے سامنے تمام تعصبات کو قربان کر دیا۔ تقریباً ڈیڑھ برس کے بعد دوبارہ کعبہ کو قبلہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بنی اسرائیل کے وہ لوگ جو مسلمان ہو چکے تھے یا مسلمانوں کے قریب تھے، آزمائے گئے اور ان میں سے منافقین کا پردہ چاک ہو گیا۔


NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
LIST PAGE