ابو ایوب انصاری رضی الله تعالی عنہ
 کے مکان کا موجودہ نشان
===================================

 


اوپر دی گئی  تصویر کو غور سے دیکھیں - اسمیں تصویر نمبر ایک موجودہ دور کی تصویر ہے اور نمبر دو آج سے پنتیس . چالیس سال پہلے کی تصویر ہے - تصویر نمبر ایک میں ذرا غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ گنبد خضرا کے دامن میں بنے ماربل کے وسیع و عریض فرش پر چوکور خانوں کا ایک لمبا سلسلہ موجود ہے ، لیکن کم ہی لوگ اس بات کو محسوس کر پاتے ہیں کہ صرف ایک چوکور خانہ ایسا ہے جس کا ڈیزاین دیگر تمام چوکور خانوں سے مختلف ہے - اس خانے کو میں نے دو لال تیروں سے ظاہر کیا ہے -
غور سے دیکھیں یہ دو لال تیروں والا خانہ باقی نظر آنے والے تمام چوکور خانوں سے جنکو میں نے نیلے ڈاٹس سے ظاہر کیا ہے ، مختلف نظر آتا ہے - تمام چوکور خانوں کے بیچ میں مزید ایک چھوٹا چوکور خانہ موجود ہے جبکہ دو لال تیروں سے ظاہر کیا جانے والے چوکور خانے کے بیچ میں خالی جگہ ہے جو اسکو دیگر چوکور خانوں سے ممتاز کرتی ہے - پر ایسا کیوں ہے ؟ کیا یہ خانہ بلا وجہہ دیگر تمام خانوں سے منفرد رکھا گیا ہے ؟
یقینا'' اس خانے کی ایک انفرادیت ہے جو الحمد لللہ اھلا'' کے فورم سے آج آپکے علم میں لائی جارہی ہے - ذرا اس تفصیل کو پڑھیں :-
اس شخص کی قسمت پر نہ تو کوئی قلم کچھہ لکھ سکتا ہے اور نہ زبان کچھہ کہ سکتی ہے جسکو ہجرت مدینہ کے تاریخ ساز موقع پر رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم کو میزبانی کا لازوال شرف حاصل ہوا - جس کے گھر کے در و بآم . بستر و تکیے اور برتن و کٹورے ، رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم کی قربت کا روحانی اور لا فانی مزہ لوٹ چکے ہوں ، اسکی قسمت پر جتنا رشک کیا جایے کم ہے - یہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی الله تعالی عنہ تھے جنھیں یہ اعزاز ملا -
رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو ہر شخص میزبانی کا شرف حاصل کرنے کا خواہش مند تھا۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جس جگہ اونٹنی ( قصویٰ ) بیٹھے گی۔ وہیں آپ مقیم ہوں گے۔ اونٹنی ابو ایوب انصاری رضی الله تعالی عنہ کے دروازے پر بیٹھی۔ ان کا مکان دو منزلہ تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نیچے قیام فرمایا اور سات ماہ تک یہاں رہے۔
رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم جب تک ان کے مکان میں تشریف فرمارہے،عموما ًانصار یا خود سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہہ ، رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں روزانہ کھانا بھیجا کرتے تھے -،کھانے سے جو کچھ بچ جاتا رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم ، سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہہ کے پاس بھیج دیتے تھے- سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہہ ، رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم کی انگلیوں کے نشان دیکھتے اورجس طرف سے رسول مکرم ﷺ نے نوش فرمایا ہوتا وہیں انگلی رکھتے اور کھاتے - ،ایک دفعہ کھانا واپس آیا تو معلوم ہوا کہ رسول مکرم ﷺ نے تناول نہیں فرمایا -،مضطربانہ خدمت اقدس میں پہنچے اورنہ کھانے کا سبب دریافت کیا -
،ارشاد ہوا کھانے میں لہسن تھا اور میں لہسن پسند نہیں کرتا،ا سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہہ نے کہا"فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَه"جو آپ کو ناپسند ہو یا رسول اللہ ﷺ میں بھی اس کو ناپسند کروں گا -
سات ماہ قیام کے دوران ، اسی گھر کے قریب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے '' مسجد النبوی '' کی لازوال بنیادیں اس طرح رکھیں کہ سیدنا ابو ایوب انصاری کا وہ مبارک گھر '' مسجد النبوی '' کے بغل میں آ گیا - آج سے تیس ، چالیس سال قبل تک یہ تاریخی مکان کسی نہ کسی حالت میں موجود تھا اور زایریں حج و عمرہ اسکی نظر بھر کے زیارت کرتے تھے - گنبد خضرہ کے دامن میں یہ روح پرور مکان کیسا نظر اتا تھا ، اس کے لیے آپ ، آج کی اھلا'' تصویر میں اس چھوٹی تصویر کو دیکھیں جس پر میں نے نمبر دو ( 2) ڈال دیا ہے اور اس متبرک مکان کو نیلے تیر سے ظاہر کیا ہے - اورنج رنگ کا دایره اصل مکان نہیں ہے بلکہ اس سے متصل سپاٹ چھت والا مکان اصل مکان مبارک تھا -
جدید تعمیرات کے بعد اس مکان کو شہید کر دیا گیا لیکن بطور نشانی آج بھی فرش پر وہ سب سے مختلف نظر آنے والا خانہ ( دو لال تیروں کو دیکھیں ) اس مقام کی نشان دہی کے لیے موجود ہے جہاں ہجرت کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اونٹنی '' قصویٰ '' تشریف فرما ہوئی اور یہی مقام '' مکان سیدنا ابو ایوب انصاری '' ہے -
اب آپکو اس مقام اور اسکی پہچان کا علم ہو گیا ہے ، لہذا اب آپ ان شا الله جب بھی مدینہ منورہ بلاتے جائیں تو اس مقام کی بھی زیارت کریں اور آپ کے قریب موجود جو عاشقان رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہوں . ان کو بھی بتائیں کہ وہ اس وقت کہاں کھڑے ہیں - انھیں اس منفرد چوکور خانے کی انفرادیت سے بھی روشناس کرائیں اور اگر اس دوران میں ، گنہگار یاد آ جاؤں تو مجھے بھی دعاؤں میں شامل کرلیں پلیز -
====================================================================


NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
LIST PAGE