MASJID SHAIKHAIN
مسجد شیخین




سوال
=====
 مدینہ منورہ میں اگر جبل احد کے جانب سفر کیا جایے تو ہمیں یہ مسجد جس کی تصویر دی جارہی ہے دیکھنے کو ملتی ہے - اس مقام پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے احد کی جنگ کے موقع پر احد پہچنے سے پہلے پڑاؤ ڈالا تھا اور اس مقام پر دو اہم تاریخی واقعیات رونما ہوے جن میں سے ایک واقعہ مسلمانون کے لیے بظاھر افسوسناک تھا جب کہ دوسرا واقعہ مسلمانوں کے حوصلے بڑھانے کے لیے اہم ثابت ہوا -

افسوسناک واقعہ تو یہ تھا کے اس مقام پر منافیقوں کے سردار عبداللہ بن ابی یہ کہتا ہوا اپنے تین سو ساتھیوں کو لیکر مسلمانوں کے قافلے سے چلا گیا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اسکی یہ بات نہیں مانی کہ جنگ مدینہ کی حدود کے اندر رہ کر لڑی جائے -( اسوقت احد مدینہ کی حدود سے باہر تصور کیا جاتا تھا )- 

یہ اسکا محض ایک بہانہ تھا- اسکے دل میں پہلے دن سے نفاق تھا اور وہ کسی حیلے بہانے کی تلاش میں تھا - اسکے اس عمل سے یہ ہوا کہ مسلمان جو پہلے ہے کفّار کی تین ہزار افراد پر مشتمل فوج کی سامنے صرف ایک ہزار تھے ، منافقت کی وجہ کم ہوکر صرف سات سو رہ گیے -

اس کی علاوہ یہاں مسلمانوں کی حوصلے کو بڑھانے کا بھی ایک عظیم الشان واقعہ رونما ہوا - آپکو یہ ہنٹ دیتا چلوں کہ یہ واقعہ اسلام کی کمسن بچوں سے تعلق رکھتا ہے- 

آپ صرف یہ بتادیں :-
١- اس مسجد کا کیا نام ہے - اور
٢٢- یہاں بچوں سے متعلق کونسا تاریخ ساز واقعہ پیش آیا جس نے مسلمانوں کی حوصلوں کو جلا بخشی- 
 یہ مسجد آج بھی مدینہ منورہ میں موجود ہے اور آپ آسانی سے احد کی جانب جاتے ہوے اسکی زیارت کر سکتے ہیں -

======================================
جواب نوٹ کریں پلیز 
===============

اس سوال کا کوئی جواب صحیح نہ اسکا - نو پرابلم -

اصل میں اس مسجد کا نام " مسجد شیخین " ہے - جس کے معنی ہیں " وہ د و " --- 

عربی میں کسی نام کے ساتھ " ین " لگا دیں تو اس کا مفہوم د و کا ہو جاتا ہے ---جیسےرب المشرقین ---یعنی ---دونون مشرقوں کے رب --- اس ہی طرح اگر ہم عربی میں ایک ریال کہنا چاہیں تو ہم کہیں گے--- واحد ریال ---- واحد معنی ایک اور ریال معنی ریال ---مگر ہم جب --- دو ریال --- کہنے چاہیں گے تو اب ہم یہاں 
 دو کی عربی --- اتنیں--- استمعال نہیں کریں گے بلکہ سیدھا سیدھا--- د و ریال --- کو--- ریالیں--- کہ دیں گے - گویا --- ریال میں صرف --- ین --- کا اضافہ کردیں گے تو اس کا مفہوم --- دو ریال بن جایے گا -

اس ہی طرح سے اس مسجد ، مسجد شیخین کے معنی ہوے -- دو خاص انسانون کی مسجد - 

تو یہ تو اس مسجد کا نام ہوا اور یہاں تاریخی واقعہ جو پیش آیا وہ یہ تھا کہ جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم ، احد کی جنگ کے لیے جبل احد کی جانب جارہے تھے تو اس مقام پر آپ صلی الله علیہ وسلم اور انکے ساتھیوں نے پڑاؤ ڈالا اور اس موقع پر آپ صلی الله علیہ وسلم نے مدینہ کے تمام نوجوان مردوں اور عورتوں کو جنگ میں شریک ہونے کا حکم دیا- اس موقعہ پر بہت سے کمسن بچے بھی شوق شہادت میں یہاں جمع ہو گئے لیکن رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے انھیں کمسنی کی وجہہ سے جنگ میں شریک نہ کیا اور انھیں وہاں سے واپس کر دیا -

اس موقعہ پر ایک بچے رافع رضی الله تعالہ عنہ کی ضد پر اس والد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوے اور عرض کیا کہ " الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم میرا بیٹا بہت اچھا تیر انداز ہے- اپ اسے فوج میں شامل ہونے کی اجازت دے دیں " - جب وہ اپنے بیٹے کی سفارش کر رہے تھے کمسن سیدنا رافع رضی الله تعالہ عنہ اپنے پنجوں کے بل کھڑے ہوکر اپنے بڑے ہونے کا ثبوت دینے کی عاشقانہ کوشش کر رہے تھے - رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب اس بچے کا شوق دیکھا تو آپ نے انھیں جنگ میں آنے کی اجازت دے دی - 

ایک دوسرے بچے سمرہ بن جندب رضی الله تعالہ عنہ نے جب یہ دیکھا تو وہ بھی تڑپ اٹھے اور اپنے سوتیلے والد سے کہا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے رافع کو فوج میں شامل کر لیا اور مجھے بچہ جان کر واپس کر دیا حالاں کہ میں رافع سے زیادہ طاقتور ہوں ، چاہیں تو کشتی کا مقابلہ کر والیں - جب سمرہ بن جندب رضی الله تعالہ عنہ کے والد نے یہ بات رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کی تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے سمرہ بن جندب رضی الله تعالہ عنہ سے کہا کہ " اچھا تو تم اپنا کہا ثابت کر کے دیکھاؤ " -

پھر واقعی اس مقام پر کشتی کے مقابلے کا اہتمام کیا گیا اور سمرہ بن جندب رضی الله تعالہ عنہ نے رافع رضی الله تعالہ عنہ کو شکست دی - اور الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے ان دونون کمسن بچوں کو اسلامی فوج میں شامل کر لیا - اور پھراس طرح بہت سے دوسرے ایمان اور جزبہ شہادت سے پر بچوں کو بھی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا یہاں موقعہ ملا اوران میں سے بھی کئی احد کی اسلامی فوج میں شامل ہو گیۓ- واضح رہے کشتی کے مقابلے اہل عرب میں کھیل کے طور پر جانے پہچانے جاتے تھے - 
 اس مقابلہ کشتی کی وجہہ سے یہ مقام تاریخی حیثیت اختیار کر گیا- یہ مقام مسجد کی صورت میں آج بھی منورہ میں موجود ہے اور یہاں پانچ وقتوں کی پابندی سے اذانوں اور نمازوں کا اہتمام ہوتا ہے - 
============================================================


NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
LIST PAGE