'' زلال جنت
جنت کے باغ '' ریاض الجنه ''

 میں اسکا ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں



اصل موضو ع کی جانب آنے سے پہلے آپ مختصرا'' ان باتوں کو جان لیں جو آپکے ذہن میں ایک نقشہ سا کھینچ دیں گی اور آپکو آج کی دلچسپ اور نادر پوسٹ کو پڑھنے اور کچھ حیرت انگیز جاننے کا موقع اس طرح ملے گا کہ اپکا مزہ دو چند ہوجایے گا اور آپکی روحانی لطافت نور اعلی نور کی منزل تک جا پہنچے گی-

اس تصویر میں روضۂ اقدس اقدس صلی الله علیہ وسلم کی سرہانے والی دیوار کی جالیاں اس طرح نظر آرہی ہیں کہ اسمیں تین ستونوں کے نصف کرّے روضۂ اقدس کے باہر ہمیں نظر آرہے ہیں جنکو میں نے مختلف رنگوں کے تیروں سے ظاہر کیا ہے جب کہ بقیہ نصف کرّے روضۂ اقدس کے اندر ہیں جو ہمیں نظر نہیں آ رہے -
یہ روضۂ اقدس صلی الله علیہ وسلم کی سرہانے والی دیوار ہے جس کے ساتھہ مسجد النبوی کا وہ فرش نظر آ رہا ہے جسکو رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم نے جنت کا باغ قرار دیا اور حرف عام میں ہم اسے '' '' ریاض الجنه '' کے نام سے جانتے ہیں اور اس دیوار میں بنے دروازے سے رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم اپنے حجرہ مبارک سے مسجد النبوی میں داخل ہوتے اور منبر شریف تک دن میں کم از کم پانچ بار نمازوں کی امامت کے لیے تشریف لیے جاتے اور اس کے علاوہ نہ جانے کتنی بار کرہ ارضی کے اس چھوٹے سے خوشقسمت قطعے نے رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم کے قدمین مبارک کا بوسہ لیا ہوگا اور اس وجہ سے الله سبحان و تعالی کو پوری کایںات میں زمین کا یہ چھوٹا سا ٹکڑا اتنا محبوب ہوگیا کہ آپ نے روز قیامت اسکو پورے کا پورا جنت میں اٹھا کر جنت کی کیاری بنانے کا وعدہ کیا -
اس تصویر میں پیلے تیر سے میں نے ان سبز قالینوں کو دیکھانے کی کوشش کی ہے جو '' ریاض الجنه '' میں بچھے ہوتے ہیں اور اس وقت انکا کچھ حصہ رول کر دیا گیا ہے تا کہ '' ریاض الجنه '' کا فرش نظر آ سکے - '' ریاض الجنه '' کے یہ سبز قالین پوری مسجد النبوی کے دیگر حصوں میں بچھے سرخ رنگ کے قالینوں سے صرف اس لیے مختلف رکھے گیے ہیں تا کہ لوگ جنت کے اس حصے کو آسانی سے پہچان سکیں -
اب آپ ذرا ستونوں پر نظر دوڑائیں تو دور والے ستوں کو میں نے براؤں کلر کے تیر سے دیکھایا ہے اور اس ستوں کو '' اسطوانہ سریر '' کہتے ہیں جہاں حالت اعتکاف میں رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم کا سریر یعنی بستر لگایا جاتا تھا تا کہ آپ آرام کے وقت یہاں آرام کر سکیں اور حجرہ مبارک سے ایک کھڑکی اس مقام پر نکلتی تھی جس کا نشان آج بھی موجود ہے اور اندر سے بی بی اماں عائشہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے گپسو مبارک میں تیل ڈال دیا کرتی تھیں - آج کی پوسٹ میں ان مبارک ستونوں کا ذکر مقصود نہیں اسلئے بس 'مختصرا' اور اجمالا'' ان کا ذکر کر رہا ہوں - بیچ والے ستوں کو میں نے نیلے تیر سے ظاہر کیا ہے ، یہ '' اسطوانہ حرس '' یعنی محافظ والا ستوں کہلاتا ہے کیوں کہ اس مقام پر سیدنا علی رضی الله تعالی عنہ اس وقت تک رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم کی حفاظت کی پہرے داری کے فرایض انجام دیتے رہے جب تک الله سبحان و تعالی نے وحی کے ذریعے از خود رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم کی حفاظت کا ذمہ نہ لے لیا - اسکے بعد آپکو سب سے نزدیک '' کالے تیر '' والا ستوں نظر آ رہا ہے جو '' اسطوانہ وفود '' کہلاتا ہے کیوں کہ اس مقام پر رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم مختلف مقامات سے آنے والے وفود سے ملاقات کیا کرتے تھے -

اب ہم اپنے اصل موضو ع کی جانب آتے ہیں - کالے تیر والے ستوں یعنی '' اسطوانہ وفود '' اور نیلے تیر والے ستوں یعنی '' اسطوانہ حرس '' کے درمیان آپکو ایک دروازہ نظر آ رہا ہے جسکو میں نے '' سرخ تیر '' سے واضح کیا ہے اور اس دوازے کو '' باب وفود '' کہا جاتا ہے - بس ، بس ، بس اسی مقام پر رک جایے اور غور سے ان تین سبز تیروں کی جانب دیکھیں جو آج کی پوسٹ کی اصل روحانی کہانی ہے- کہانی نہیں بلکہ حقیقت ہے -

ترک سلطان عبدلمجید کے دور میں جب '' ریاض الجنه '' کی از سر نو تزین و آرایش ہو نے لگی اور چھت پر گنبد بناتے جانے لگے تو سلطان کی خواہش تھی کہ '' ریاض الجنه '' میں موجود اوپر بیان کردہ تین ستونوں سمیت جو کل چھہ روحانی اور تاریخی ستوں ہیں جن میں '' اسطوانہ عائشہ '' ، '' اسطوانہ
ابی لبابہ '' اور '' '' اسطوانہ مخلقه'' بھی شامل ہیں جن ذکر آج کی پوسٹ میں ، میں نے نہیں کیا ہے ، انکے مقامات میں ذرہ برابر تبدیلی نہ ہو - گویا چھت پر گنبد تو بنایے جائیں پر چھہ کے چھہ تاریخی ستون ایک انچ بھی اپنی جگہہ سے نہ ہٹیں -

اسی لیے آپ اگر کبھی '' ریاض الجنه '' میں کھڑے ہوکر چھت کی جانب دیکھیں یا اوپر جاکر چھت دیکھیں تو آپکو چھت پر بنے گنبد چھوٹے بڑے مختلف سایز کے نظر آئیں گے کیوں کہ بنانے والوں کی مجبوری تھی جن ستونوں پر چھت ڈال کر گنبد بنانے تھے کہ انھیں اپنے پرانے مقام سے ہٹانے کی اجازت نہ تھی -

اب اصل واقعہ پر آئین ----- '' ریاض الجنه '' کے مختلف حصوں میں جب کھدائی ہو رہی تھی تا کہ مظبوط ستوں استوار کے جائیں تو روضۂ مبارک کی دیوار میں '' باب الوفود '' ( لال تیر دیکھیں ) کے قریب '' ریاض الجنه '' میں جب کوئی آٹھہ ہاتھہ یعنی چار میٹر کھدائی کی گئی تو وہاں خلاف توقع اچانک ایک میٹھے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا - ( مقام کے تعین کے لیے تین سبز تیروں کو دیکھیں ) -

چشم دید لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ پانی '' زلال جنت '' کی طرح سفید اور نہایت شرین تھا - زلال '' انڈے کی سفیدی کو کہتے ہیں '' - اس پانی سے فیضیاب ہونے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ پانی پینے میں مدینہ منورہ کے دیگر کنووں کے مقابلے میں سب سے منفرد اوریکتا تھا - یہ بے مثل پانی تھا اور شاید '' ریاض الجنه '' میں ہونے کی وجہ سے جنت کا ہی پانی ہو - اس چشمے کے گرد پرانے کھجور کے درختوں کی سبز جڑیں بھی پائی گیئں -
یہ متبرک پانی سلطان عبدلمجید 
کی خدمت میں بھی پیش کیا گیا مگر سلطان نے نامعلوم وجوہ کی بنا پر اس کو بند کروا دیا مگر یہ یقین کامل ہے کہ آج بھی یہ متبرک جنتی پانی تقریبا'' اس مقام پر جہاں تین سبز تیر بنے ہیں محض چار یا چھہ میٹر نیچے موجود ہوگا -

کیا اچھا ہو کہ اب جب کبھی ہم سب مدینہ منورہ بلایے جائیں تو چند ساعتیں یہاں رک کر اس معجزانہ پانی کا تصور اپنے ذہنوں میں گھومائیں اور اسکی روحانی لطافتوں سے محظوظ ہوں -

اس واقعہ کا ذکر '' اللوا صادق باشا '' نے اپنے عربی سفر نامے '' الرحلات
الحجازية '' میں کیا ہے جو انٹر نیٹ پر بھی موجود ہے - یہ سفر آپ نے انیسویں صدی کے آخر میں کیا تھا اور انہوں نے یہ واقعہ انجینئیر محمود آفندی سے نقل کیا ہے جو اس مبارک کام پر مامور تھے اور چشم دیدہ گواہ تھے - بقول '' اللوا صادق باشا ''کے انھیں بھی ان متبرک کھجوروں کی کچھ باقیات نصیب ہوئیں - الله أعلم

( میں نے اس پوسٹ کے کچھہ اختتامی پیرے '' جستجو ے مدینہ '' سے مستعار لیے ہیں - )

NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
LIST PAGE