کاش یہ اپنی جانوں پر ظلم نہ کرتے اور اور ہمارا متبرک اور محترم حرم کعبہ
زخمی نہ ہوتا - کاش1979 کو پیش انے والا حرم مکی
 کا واقعہ وقوع پزیر نہ ہوا ہوتا -
 ( 1979 کو کیا ہوا تھا ؟ جاننے کے لیے پڑھیے )
=============================================

حج ختم ہوے ابھی بیس ہی دن ہوے تھے اور نیے اسلامی سال بلکہ نئی اسلامی صدی یعنی سن چودہ سو ہجری کا پہلا دن تھا - گویا یہ یکم محرم الحرام سن
1400 ہجری بمطابق 20نومبر 1979 ، منگل کی صبح تھی جب اسلامی تاریخ کا ایک ایسا تلخ اور دلوں کو دکھی کر دینا والا واقعہ مسجد الحرام کی محترم اور مبارک دیواروں کے بیچ ، جانوں سے زیادہ عزیز کعبہ مشرفہ کے اطراف میں وقوع پزیر ہوا جسکے زخم آج تک عشاق حرم کے دلوں میں ہرے ہیں -

نئی صدی کی پہلی صبح جب امام حرم کعبہ شیخ عبد اللہ بن سبیل نے نماز فجر کا سلام پھیرا ہی تھا کہ چند آدمیوں نے امام صاحب کو گھیرے میں لے لیا ان میں سے کچھ لائوڈ سپیکر پر قابض ہو گئے - کچھ مسجد الحرام کے میناروں پر چڑھ گیے اور کچھ مسلح افراد نے مسجد کے دروازوں کا کنٹرول سنبھال لیا - کیوں کہ حج ختم ہوے ابھی زیادہ دن نہیں ہوے تھے ، اسلئے دوسرے ملکوں کے حاجیوں کی ابھی کثیر تعداد مکّہ مکرمہ میں ہی مقیم تھے جسکی وجہ سے جب یہ دلسوز حملہ امت مسلمہ کے قلوب پر کیا گیا تو ، اس وقت حرم شریف میں ایک لاکھ کے قریب نمازی موجود تھے۔

ان حملہ آوروں کا سرغنہ ''جہیمان بن سیف العتیبہ '' تھا اور اس کا تعلق سعودی عرب کے علاقے ''نجد '' کے ایک طاقتور گھرانے سے تھا ۔ اس کا دست راست ٢٧ سالہ محمد بن عبد اللہ قحطانی تھا جس نے چار سال تک مکہ یونیورسٹی میں اسلامی قانون کی تعلیم حاصل کی تھی جسکی تصویر آپکی خدمت میں آج کی اھلا'' پوسٹ میں پیش کی جارہی ہے ۔ کہا جاتا ہے یہ حملہ آوروں کا سرغنہ ''جہیمان بن سیف العتیبہ '' کا بہنوئی تھا -


سرغنہ ''جہیمان بن سیف العتیبہ ''
Leader Juhaiman ibn Muhammad ibn Saif al Utaibi 
[please do not see pic for long time. it is given only
for academic knowledge and IBRAT]

[May Almigty ALLAH subhan-o-talla 
for give me .ameen
]

ان لوگوں نے بڑی باریک بینی سے پلاننگ کر کے جنازوں کا بہروپ بنا کر تابوتوں کے ذریعے اسلحہ کی بڑی مقدار حرم پاک کے تہہ خانوں میں جمع کر لی تھی۔ اسلحے کے ساتھہ خشک کھجوروں اور دیگر اشیا خرد و نوش کا بھی اچھا خاصا ذخیرہ تہ خانوں میں چھپا دیا گیا تھا - یہ سب کام کئی دنوں میں مکمل ہوا مگر سازش گہری تھی ، اسلئے کسی کو اسکا شک نہ ہوا اور کسی کے گمان میں بھی یہ نہ تھا کہ اس متبرک مقام پر کوئی گروہ اتنی ناپاک سازش کا تصور بھی کر سکتا ہے -

دلوں کو چیر دینے والی اس صبح جب امام حرم کعبہ شیخ عبد اللہ بن سبیل کو ان حملہ آوروں نے اپنے قابو میں کیا تو فورا'' ہی انکے ناپاک عزائم کے مطابق کروائی پورے حرم محترم میں شروع ہوگی - اچانک حرم کے تمام دروازے بند کر کے ان پر اپنے مسلح افراد کھڑے کر دئیے گیے ۔ حرم میں موجود تمام نمازی یرغمال بنا لیے گیے - جو اپنی سی کوشش سے حرم سے نکل گیے ، نکل گیے - باقی سب معصوم حاجی اور نمازی جن خواتین .، بوڑھے اور بچے بھی تھے محصور ہو کر رہ گیے - ایک حملہ آور نے عربی میں حرم پاک کے اس مایک سے جس پر چند لمحوں پہلے نماز فجر کی تلاوت ہورہی تھی ، اعلانات کرنا شروع کر دیے کہ '' مہدی موعود جس کا نام محمد بن عبدا للہ ہے آ چکا ہے۔ '' - نام نہاد مہدی'' محمد بن عبد اللہ قحطانی '' جسکی تصویر اوپر دی گئی ہے اس نے بھی مائیک پر آ کر اعلان کیا کہ ''میں نئی صدی کا مہدی ہوں- میرے ہاتھ پر سب لوگ بیعت کرینگے '' - اس کے بعد اس گمراہ ٹولے نے مسجد الحرام کے مقام ابراہیم جیسے مقدس گوشے کے پاس ، کعبہ مشرفہ کے عین سامنے جا کر گولیوں ، سنگینوں اور بندوقوں کے سائے میں لوگوں کو دھمکاتے ہوئے بیعت شروع کروا دی ۔


محاصرے کے فورا'' بعد وزارت داخلہ کے تقریبا'' سو اہلکاروں نے دوبارہ حرم شریف پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن مرتدین حملہ آوروں نے ان اہلکاروں کی کوسش ناکام بنا دی - اس کوشش میں بہت سا جانی نقصان بھی ہوا - اسکے بعد سعودی فوج اور سعودی نیشنل گارڈ نے بھی حرم پاک کو ناپاک لوگوں سے آزاد کرانے کی کوشش کی گئی جو زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوئی - شام ہوتے ہوتے پورے مکّہ مکرمہ کو رہاشیوں سے خالی کرا لیا گیا ٠

سعودی فرمانروا شاہ خالد نے 32علماء پر مشتمل سپریم کونسل کا اجلاس فوری طور پر طلب کر لیا۔ علماء کرام نے قرآن ا ورحدیث کی روشنی میں متفقہ طور پر فیصلہ دیا کہ مسلح گمراہ افراد کیخلاف کارروائی شریعت کے عین مطابق ہے۔ اس فتوے کی روشنی میں بیت اللہ کے تقدس کے پیش نظر بھاری اسلحہ استعمال کرنے سے گریز کیا گیا۔

بعد ازیں سعودی آرمی اور فرنچ آرمی کا دہشت گردوں سے مقابلہ ہوا جن کے پاس سنائپرز اور شارپ شوٹرز تھــے اور انہوں نے مسجدالحرام میں جگہ جگہ پوزیشینیں سنبھال لیں ۔ دو دن تک مقابلہ ہوا لیکن سعودی فوجی ہلاکتوں کے باوجود سعودی اور فرنچ آرمی کامیابی حاصل نہ کر سکــے ۔ مسجد الحرام دو دنوں سے اذانوں اور نمازوں کی تکبیرت کی گونج سے محروم تھی - گویا نہ اذانیں دی جارہی تھیں نہ نمازوں کو باقاعدہ اہتمام ہو پارہا تھا - نہ طواف ممکن تھا -

بالا آخر الحمد لللہ پاکستان کی پاک فوج کو کارروائی کرنــے کا موقع دیا گیا ۔ جس نے ۔ نہایت کم وقت میں آپریشن کی منصوبہ بندی کی ۔ پاکستانی کمانڈوز نــے دہشت گردوں کے سنائپرز سے نمٹنــے کے لیے ایک عجیب ترکیب استعمال کی اور پورے مسجدالحرام میں پانی چھوڑا گیا اور پوری مسجد کی گیلی زمین میں کرنٹ دوڑایا گیا جس کی وجہ سے دہشت گردوں کے شارپ شوٹرز اور سنائپرز کچھ دیر کے لیــے غیر مؤثر ہوگئــے ۔

پاک فوج نــے غیر معمولی سرعت سے تمام دہشت گردوں پر قابو پالیا بغیر کسی جانی نقصان کے سب حملہ آوروں کو فوری طور پر گرفتار کر لیا ۔ تمام یرغمالیوں کو رہائی دلائی گئی ۔ اس طرح اللہ تعالی نے یہ عظیم سعادت پاکستان کو عطا کی۔ اللہ ہمارے ان روحانی مراکز مکہ و مدینہ کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے
اور انہیں حاسدوں کے شر سے محفوظ و مامون رکھے ۔ آمین -



Another picture of arrested rebels who were beheaded  later on
[please do not see pic for long time. it is given only for academic
 knowledge and IBRAT]
[May Almigty ALLAH subhan-o-talla  for give me .ameen]


LIST PAGE
NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE