ام معبد کا خیمہ
زہے نصیب یہ گمنام سی مبارک خاتون کیا کہ گئی - ( مقام معجزہ )
======================================


ہم میں سے بہت سے لوگوں نے رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم کے شمایل مباركہ یعنی حلیہ مبارک کے بارے میں خوب پڑھا ہوگا - اکثر مساجد میں آپ صلی الله علیہ وسلم کے شمایل مباركہ کی تفصیل دیواروں پر آویزاں ہوتی ہے مگر شاید کم ہی لوگوں کےعلم میں ہو کہ اس کا کیا تاریخی پس منظر ہے اور یہ حجاز مقدس کی کس زیارت گاہ سے جڑی ہوئی ہے -
جب حجاز مقدس کی کسی زیارت کا ذکر ہو اور اھلا'' کے فورم پر اسکا تذکرہ نہ ہو سکا ہو تو اس خاکسار یعنی خاکروب حرم کی کیفیت میں اضطراب سا پیدا ہو جاتا ہے اور جب تک الله سبحان تعالی کی مدد اور رضا سے وہ کام ہو نہیں جاتا ، یہ اسطراری کیفیت برقرار رہتی ہے - زیر نظر پوسٹ بھی کئی مہینوں کی جدوجہد کے بعد الحمد لللہ ممکن ہوسکی ہے -
زیارت گاہ جس کی تصویر آج کی پوسٹ میں حاضر خدمت ہے اس کا ذکر ہم بعد میں کریں گے ، آیے پہلے ہم نبي كريم سیدنا محمد صلى اللہ عليہ وسلم كے
شمایل مباركہ (حليہ مبارك ) کے سلسلے ميں جو حديث مبارکہ آئی ہے وہ ایک نیک خاتون سیدہ ام معبد رضي اللہ عنہا، سے مروی ہے جو آپ نے نبي كريم سیدنا محمد صلى اللہ عليہ وسلم كے شمایل مباركہ کی شان میں بیان کرتے ہوے قصیدہ گوئی کے انداز میں کچھ یوں کی ہے - بعد کے لوگوں نے بھی اسی پیروی میں قصیدہ گوئی کی ہے لیکن وہ سب سیدہ ام معبد سے ہی ماخوذ ہے - آپ کہتی ہیں :
" بولى عفيفہ مادرِ معبد كہ كيا كہوں؟
حيران ہوں كيسے اس ﷺ كا سراپا بياں كروں ؟
اوصاف اس حبيب ﷺ كے ميں كس طرح گنوں ؟
اس كے حسيں وجود كو تشبيہ كس سے دوں ؟
وہ پیكرِ جميل سراپا جمال ہے !
ميرى زباں سے اس كى ستائش محال ہے !
پاكيزہ رو، كشادہ جبيں، چشم سرمگیں
گردن بلند، پتلياں روشن، قد حسيں
شيريں كلام، جادو بياں، نطق انگبين
پیوستہ ابرو، غاليہ مو، زلف عنبريں
دل بستگی ليے ہوئے خاموش و پروقار
آواز پر جلال و ہمہ تمكنت شعار!
ديکھیں جو دور سے تو وہ زيبا دكھائى دے !
بولے تو كھینچتا ہوا دل كو سنائى دے !
گفتار موتيوں كى لڑى سى سجھائى دے
مظلوم اس كے پاس پنہ كى دہائى دے
اس كے رفيق سنتے تو ہیں بولتے نہیں
فرمان پر زبان كبھی كھولتے نہیں"
====================
اصل واقعہ یہ ہے کہ جس خاتون کا ذکر ہم نے اوپر کیا ہے وہ زمانہ جاہلیت میں گم نام تھیں، مگر جب معبود حقیقی لوگوں کو کسی سعادت مند کے لیے مسخر کر دیتا ہے تو وہ لوگ بھی سعادت مند بن جاتے ہیں، اس خاتون پر اس وقت برکت کی بارش ہوئی، جب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے موقع پر دوران سفر ان کے ہاں بطور مہمان ٹھہرے تھے،-
آپ مکہ اور مدینہ کے درمیان قد ید ( QADEED)کے مقام پر اپنے خاوند اور چند بکریوں کے ساتھہ الگ تھلگ قدرے بیاباں علاقے میں ایک خیمے میں رہا کرتی تھیں اور آںے جانے والے راستے کے مسافروں کی خوب خدمت اور تواضع کرتی تھیں -
ہجرت کے موقع پر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اورحضرت صدیق اکبر مدینہ منورہ روانگی کے لے تیار ہوئے ، عبدالله بن اریقط اللیثی کی خدمات حاصل کی گئیں، کیوں کہ وہ جنگلی راستوں کے بہت بڑے ماہر تھے، حضرت ابوبکر نے سواری کے لیے دو اونٹنیاں تیار کر رکھی تھیں اور آپ کے غلام سیدنا عامر بن فہیرہ خدمت کے لیے ہمراہ تھے -
مہاجر قافلہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا، سواریاں کبھی تیز اور کبھی آہستہ چلتیں، اس طرح وہ اجاڑ بیابان صحرا میں مسلسل چلے جارہے تھے، جب چلتے چلتے تھک جاتے تو قدرے سستانے کے لیے پڑاؤ کر لیتے، عام طور پر پڑاؤ ایسی جگہ کیا جاتا جہاں قرب وجوار میں اقامت گزینوں کی کوئی بستی ہوتی اور ان کے پاس کھانے پینے کے لیے کچھ میسر ہوتا، یہاں تک کہ اس راہ پر چلتے چلتے اس قافلے کا گزر ام معبد خزاعیہ کے ہاں سے ہوا۔ جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ہم راہ یہاں ٹھہرے، اس وقت زبردست قحط پھیلا ہوا تھا - انسان جانور سب ہی کم خوراک کی وجہ سے نڈھال تھے -
جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ان سے گوشت اور کھجوروں کے تعلق سے پوچھا، تاکہ وہ خرید لیں لیکن اس وقت قحط سالی کی وجہ سے ، اُن کے پاس کچھ بھی نہ تھا، انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: بخدا! اگر میرے پاس کچھ ہوتا تو میں آج مہمان نوازی کا اعزاز حاصل کرنے سے محروم نہ رہتی، کھانے پینے کی چیزوں کے بارے میں پوچھنے بھی نہ دیتی اور نہ ہی آپ صلی الله علیہ وسلم کو قیمت ادا کرنا پڑتی -
رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی نگاہ مبارک خیمے کے ایک کونے میں کھڑی بکری پر پڑی، آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ام معبد! یہ بکری کیسی ہے؟
عرض کیا، یہ بہت لاغر ہے، جس کی وجہ سے یہ دوسری بکریوں کے ساتھ چرنے کے لیے نہ جاسکی۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا یہ دودھ دیتی ہے؟ عرض کیا، کمزوری کی وجہ سے یہ دودھ دینے کے قابل نہیں رہی۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کیا آپ مجھے اجازت دیتی ہیں کہ میں اس کا دودھ دھو لوں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں، میرے ماں باپ آپ صلی الله علیہ وسلم پر قربان ، چشم ماروشن دل ماشاد، اگر آپ صلی الله علیہ وسلم کو اس میں دودھ کے آثار دکھائی دیتے ہیں تو بڑے شوق سے دودھ حاصل کر لیں۔
رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بکری کے تھنوں کو ہاتھ لگایا، الله کا نام لیا اور یہ دعا کی : الہٰی! اس بکری میں برکت عطا کر دے ، ان دعائیہ کلمات کا آپ صلی الله علیہ وسلم کے مبارک منھ سے نکلنا تھا کہ بکری کے تھن دودھ سے بھر گیے اور ان سے دودھ جاری ہوگیا - آپ صلی الله علیہ وسلم نے اتنا بڑا برتن منگوایا جس سے پورا کنبہ سیر ہوسکے، جس سے آپکی ہجرت کرنے والی پوری جماعت سیراب ہو سکے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے دودھ دوہا، یہاں تک کہ برتن بھر گیا۔
آپ صلی الله علیہ وسلم نے پہلے گھر کی مالکہ خاتون کو دودھ پلایا، انہوں نے خوب سیر ہو
کر پیا، پھر آپ

   آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو دودھ پلایا اور آخر میں دودھ پیا اور فرمایا: قوم کا ساقی آخرمیں پیا کرتا ہے، پھر آپ صلی الله علیہ وسلم نے دوبارہ دودھ دوہا یہاں تک کہ برتن بھر گیا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے وہ دودھ ام معبد کے پاس چھوڑا اور آپ صلی الله علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہو گئے۔

شام جب آپکے شوہر '' ابو معبد '' کمزور، لاغر اور ہڈیوں کے ڈھانچوں پر مشتمل بکریوں کا ریوڑ چرا کر گھر واپس آئے، انہوں نے ام معبدکے پاس دودھ دیکھا تو حیران رہ گئے، پوچھا یہ دودھ کہاں سے آیا؟ بکریاں تو گھر سے بہت دور تھیں اور یہاں گھر میں کوئی دودھ دینے والی بکری موجود نہ تھی، انہوں نے کہا: کیا بتاؤں؟ ہمارے تو نصیب جاگ اٹھے، ایک برکتوں والی ہستی نے یہاں قدم رنجہ فرمایا اور ہماری کایا پلٹ گئی، انہوں نے سارا قصہ سنایا، ابو معبد نے یہ سن کر کہا: بخدا! میرے خیال میں یہی تو وہ ہستی ہے جسے قریش تلاش کرتے پھرتے ہیں، ام معبد مجھے بتاؤ وہ کیسے تھے؟ ان کا سراپا کیسا تھا؟ ان کا انداز گفت گو کیا تھا؟
ام معبد نے رسول اقدس صلی الله علیہ وسلم کے اوصاف ایسی خوش اسلوبی سے بیان کرنے شروع کیے کہ سننے والا دم بخود ہو جائے، ایسی جادو بھری گفت گو اور دل کو قیدی بنانے والے الفاظ استعمال کیے کہ سننے والا انگشت بدنداں رہ جائے، ام معبد نے ایسا نقشہ کھینچا کہ جیسے سننے والا رسول اقدس صلی الله علیہ وسلم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو، انہوں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے اوصاف حمیدہ ان جادواثر الفاظ میں بیان کیے اور یہی الفاظ آج بھی آپ صلی الله علیہ وسلم کی شمایل مباركہ کے لیے استعمال کے جاتے ہیں -
آج اھلا'' کی تصویر میں اسی مقام کو دیکھایا جارہا ہے جہاں یہ خیمہ ''ام معبد نصب'' تھا اور جہاں یہ روح پرور واقعہ جسکو معجزہ کہنا زیادہ مناسب ہے وقوع پزیر ہوا - زایرین کے لیے آج کل اس مقام پر پہنچا مشکل امر ہے - تا ہم لنک میں ایک عربی ویڈو دی جا رہی ہے جس میں اس مقام کو آپ زیادہ واضح انداز میں دیکھ سکیں گے -
''ام معبد '' اور انکے شوہر نے بعد میں مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کرلی - حضرت ام معبد، حضرت عمر رضی الله تعالی عنہ کی خلافت کے آخری ایام تک زندہ رہیں، وفات کب ہوئی تاریخ خاموش دکھائی دیتی ہے، لیکن توصیف رسول صلی الله علیہ وسلم کے حوالے سے ان کا خوش بو دار کلام ہمیشہ کے لیے تاریخ کے صفحات میں ثبت ہو گیا، جب ہجرت اور اوصاف رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا تذکرہ ہوتا ہے تو ام معبدکا نام ضرور لیا جاتا ہے -
ویڈو کے لیے کلک کریں -
https://www.youtube.com/watch?v=JVNShga5-Yo

LIST PAGE
NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE