نیے غلاف کعبہ میں اللہ اکبر لکھی 5 قندیلیں
===================================================


زیر نظر تصویر میں کعبہ مشرفہ کی دو تصاویر ایک ساتھہ دیکھائی گئی ہیں - تصویر نمبر ایک ایام حج کی ہے جب کعبہ مشرفہ کے غلاف کے نچلے حصہ کو تھوڑا سا الٹ دیا جاتا ہے تا کہ لوگوں کے ہجوم سے غلاف کعبہ کو نقصان نہ پہنچے - کچھ لوگ حج کے ایام میں غلاف کعبہ کو پلٹانے کی وجہ سے اسکا جو سفید حصہ نظر آنے لگتے ہے اسکو تمثیلا'' یہ کہنے لگتے ہیں کہ کیوں کہ حج کا موسم آ گیا ہے ، اسلئے کعبہ مشرفہ کو بھی سفید احرام پہنا دیا گیا ہے - یہ محض ایک روایت ہے اور حقیقت سے اسکا دور دور کا واسطہ نہیں -

جبکہ اسی تصویر میں تصویر نمبر دو پورے غلاف کعبہ کی ہے جو مکمل طور سے کعبہ مشرفہ پر چڑھا ہوا ہے لیکن ان دونوں تصاویر میں آپکو اس نیے غلاف کعبہ کے ایک کنارے بڑے واضح اور جلی حروف میں اوپر سے نیچے کی جانب ترتیب سے سونے کی کڑھائی سے لکھے اللہ اکبر کی 5 قندیلوں یا تحریریں نظر آرہی ہیں جسکو میں نے دونوں تصاویر میں لال تیروں سے دیکھایا ہے جب کہ اس قبل کعبہ مشرفہ پر جو غلاف ہوتے تھے ان پر یا تو ان مقامات پر کچھ لکھا ہی نہیں ہوتا تھا یا کبھی '' یا حی یا قیوم '' لکھا بھی ہوتا تھا ، تو اس کا مقصد یا تو الله سبحان و تعالی کی کبریائی بیان کرنا ہوتا تھا یا محض غلاف کو پر شکوہ اور جاذب نظر بنانا ہوتا تھا - لیکن اس مرتبہ سونے کی کڑھائی سے لکھے اللہ اکبر کی 5 قندیلوں یا تحریروں کو بہت واضح انداز میں بلا مقصد نہیں لکھا گیا ہے - اس کا ایک خاص مقصد ہے -

اصل میں حج و عمرہ کے دوران طوافِ کعبہ کا آغاز حجرِ اسود کے عین سامنے سے کرنا واجب ہے یعنی اگر کسی اور مقام سے طوافِ کعبہ شروع کیا جائے تو وہ منسوخ تصور کیا جائے گا اور دوبارہ اسے حجرِ اسود کے عین سامنے سے ہی کرنا پڑے گا۔ اسلیے رش کی صورت میں طواف کرنے والوں کو ہمیشہ حجر اسود کے رخ کا اندازہ کرنے میں دقت محسوس ہوئ ہے -

غلافِ کعبہ پر سونے کی کڑھائی سے تیار کردہ پانچ قندیلوں کا اضافہ اس لیے کیا گیا ہے جن میں سے ہر ایک پر اللہ اکبر تحریر ہے اور ان کا مقصد بیت اللہ کے اُس کونے کی نشاندہی کرنا مقصود ہے جہاں حجرِ اسود نصب ہے۔ اور یہ پانچوں تحریریں یا قندیلیں مطاف میں طواف کرنے والوں کو دور سے ہی نظر آجاتی ہین اور انکو حجر اسود کا استلام کرنے اور طواف کا چکر شروع کرنے اور ختم کرنے میں بےحد آسانی ہوتی ہے-

اس بات کا باقاعدہ اعلان امورِ حرمین شریفین کے عمومی نگراں ادارے (جنرل پریذیڈنسی) نے اپنے سرکاری ٹویٹ میں کیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ قندیلوں کا مقصد طواف کی ابتداء اور اختتام کی جگہ کو واضح کرنا ہے۔

واضح رہے کہ حج و عمرہ کے دوران طوافِ کعبہ کا آغاز حجرِ اسود کے عین سامنے سے کرنا واجب ہے۔ یعنی اگر کسی اور مقام سے طوافِ کعبہ شروع کیا جائے تو وہ منسوخ تصور کیا جائے گا اور دوبارہ سے کرنا پڑے گا۔ البتہ ہجوم کے باعث لوگوں کو بیت اللہ کے اُس کونے کی شناخت میں دشواری یا غلط فہمی ہوتی ہے جہاں حجرِ اسود نصب ہے۔ یہ اقدام زائرین کی ان ہی مشکلات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

مذکورہ پانچ سنہری قندیلیں جو عمودی شکل میں ہیں، بیت اللہ کی حالیہ تاریخ میں وہ چوتھی نشانی ہے جسے زائرین کی رہنمائی کےلئے حجرِ اسود کے عین اوپر غلافِ کعبہ میں لگایا گیا ہے۔ اگرچہ طواف کی ابتدا اور اختتام حجر اسود سے ہوتا ہے تاہم اکثر مرتبہ طواف کرنے والوں کے اختلاط اور بے پناہ رش کے سبب غلط فہمی ہوجاتی ہے۔

اس سے پہلے سعودی مملکت کے عہد میں مقامِ آغازِ طواف کی نشاندہی کےلئے تین نشانیاں لگائی گئیں۔ ان میں پہلی نشانی مطاف کے صحن کے اندر سیاہ دائرے کی شکل میں تھی۔ تاہم شاہ فہد کے دور کی توسیع میں اسے ختم کر دیا گیا۔

بعد ازاں دوسری نشانی کے طور پر زمین پر یعنی مطاف کے سفید ماربل پر نمایاں کالے رنگ سے ایک لکیر بنادی گئی تھی جو حجر اسود کے مقابل باب صفا کی جانب پھیلی ہوئی تھی۔ یہ لکیر کئی سال تک ابتدائے طواف کا مقام جاننے میں نمایاں ترین ذریعہ بنی رہی۔ لوگ اپنے قدموں کی جانب دیکھتے رہتےاور جیسے ہی وہ کالی لکیر انہیں نظر آتی وہ سمجھہ جاتے کہ وہ حجر اسود کے مقابل آ گے ہیں-

اس کے بعد زائرین کا ہجوم مسلسل بڑھنے کے نتیجے میں اس نشانی کی افادیت کم ہوگئی اور اسے بھی ختم کردیا گیا؛ جس کے بعد حجرِ اسود کے عین سامنے کی مسجد الحرام کی دیوار پر سبز قمقمے نصب کردیئے گئے تاکہ ان سے طواف کے آغاز و اختتام کے مقام کی نشاندہی میں رہنمائی لی جاسکے جو ابھی بھی موجود ہیں لیکن انکو دیکھنے کے لیے طواف کرنے والوں کوبیت اللہ سے نظریں ہٹا کر بار بار اس کے مقابل بنی مسجد الحرام کی دیواروں کی جانب دیکھنا پڑتا ہے جس سے انکے طواف کرنے کے انہماک میں خلل پڑتا ہے -

بس اسی چیز کو آسان بنانے کے لیے کعبہ مشرفہ کے حجر اسود کے کونے پر بڑے واضح اور جلی حروف میں اوپر سے نیچے کی جانب ترتیب سے سونے کی کڑھائی سے لکھے اللہ اکبر کی 5 قندیلوں یا تحریروں کا گرانقدر اضافہ کر دیا گیا ہے تاکہ حاجی اور عمرے کا طواف کرنے والے آسانی سے حجر اسود کا
تعین کر سکیں -
==========================


LIST PAGE
NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE