موجودہ مقام براق
مکان ام ہانی رضی الله تعالی عنہا

===============================================


مسجد الحرام کی جدید تعمیر کے بعد وہ ستوں جہاں براق باندھا گیا تھا اور جہاں سے آپ صلی الله علیہ وسلم نے معراج کے سفر کا آغاز کیا تھا کچھ اس طرح نظر اتے ہیں جو آج کی اھلا'' تصویر میں پیش کیے گیے ہیں -

اغلب امکان ہے کہ لال ڈاٹ والا ستوں اس مقام کی نشان دہی کر رہا ہے جہاں براق بندھا گیا تھا جبکہ فیروزی ڈاٹ والا ستوں اس مقام کو ظاہر کر رہا ہے جہاں سے آپ صلی الله علیہ وسلم نے سفر معراج کا آغاز کیا تھا - یہ مقام اس وقت مسجد الحرام سے باہر تھا اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی چچا زاد بہن ام ہانی رضی الله تعالی عنہا کا گھر تھا جہاں معراج کی رات رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم آرام فرما رہے تھے کہ اچانک یہ آسمانوں میں سفر کا معجزہ رونما ہوا -

==========
قرآن کریم میں سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں ارشادِ باری  تعالی ہے کہ ٠

وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجد الحرام یعنی (خانہ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تاکہ ہم اسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں۔ بے شک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے۔

رجب کی ستائیسویں شب کو اللہ کے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معراج کا شرف عطا کیا گیا۔ یہ واقعہ ہجرت سے پانچ سال قبل پیش آ یا۔
منقول ہے کہ اس دن کفار نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بہت ستایا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی چچازاد بہن ام ہانی کے گھر تشریف لے گئے اور وہاں آرام فرمانے لگے۔ سیدہ ام ہانی کا مکان اس وقت کی مسجد الحرام کی حدود سے باہر چند قدم پر تھا مگر اب مسجد الحرام کے اندر آگیا ہے - گھر تو ظاہر ہے اب کسی بھی حالت میں موجو نہیں تاہم دو یادگاری ستوں حرم میں موجود ہیں جو اس مقام کی نشان دہی کر تے ہیں -


مسجد الحرام کے گیٹ نمبر ایک یعنی یعنی '' باب عبدالعزیز '' سے آپ اندر داخل ہوں اور کعبہ مشرفہ کی جانب سیدھے چلیں تو آپکو سیڑھیاں ملیں گی جو مطاف یعنی طواف کرنے والے صحن میں اتر رہی ہیں ان سیڑھیوں کے وسط میں پہنچ کر اگر آپ رک جائیں اور بایئں ہاتھہ کی جانب دیکھیں تو آپکو دو پتلے پتلے دوسرے تمام ستوں سے مختلف ستوں نظر آین گے - تصویر نمبر دو میں میں نے سرخ تیر سے ان سیڑھیوں کی جانب اشارہ کیا ہے جو مطاف میں اتر رہی ہیں اور جب آپ مطاف میں اترتے وقت ان سیڑھیوں کے عین وسط میں پہنچیں تو اپنی بایئں جانب دیکھیں - یہاں آپکو دو دیگر تم ستونوں سے مختلف ستوں نظر این گے - ایک ستوں گلابی رنگ کا اور دوسرا سرمی رنگ کا ہے جسکو میں نے تصویر نمبر ایک میں نیلے سرکل اور سرخ سرکل سے واضح کیا ہے -
 ( SEE ABOVE PIC )

تصویر نمبر دو میں یہ دونوں ستوں نہایت واضح ہیں . داہنے ہاتھہ والا ستوں خوبصورت گلابی رنگ کا ہے اور یہ وہ مقام ہے جہاں سے براق نے رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی پشت پر بیٹھا کر مسجد اقصیٰ کی جانب زمینی سفر کا آغاز کیا تھا جس کا ذکر اوپر پیش کی گئی قران پاک کی سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں آیا ہے جبکہ بایئں ہاتھہ والا ستوں جو سرمی رنگ کا ہے جسکو تصویر نمبر دو میں لال سرکل سے دیکھایا گیا ہے اور تصویر نمبر ایک میں سرخ ڈاٹ سے ظاہر کیا گیا ہے ، یہ وہ ستوں ہے جہاں سیدنا جبریل علیہ سلام نے براق کو باندھا تھا جو سیدہ ام ہانی کے مکان سے متصل رہا ہوگا -

تصویر نمبر ایک میں اس ستوں کو آپ غورسے دیکھیں تو اس ستوں پر لوہے کے دو رنگ لگے نظر آیں گے جو اس بات کی نشاندھی ہے کہ براق یہاں باندھا گیا تھا - بہت کم لوگ ہیں جن کو اس مقدس مقام کا علم ہے - آپ جب حرمین میں بلاتے جائیں تو ضرور اسکی زیارت کریں -

اصل واقعہ پڑھیں
ادھر اللہ کے حکم سے حضرت جبریل پچاس ہزار فرشتوں کی برات اور براق لے کر نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے - آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آرام فرما رہے تھے -  حضرت جبریل علیہ سلام نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی  خدمت میں  عرض کیا کہ

اے اللہ کے رسول، آپ کا رب آپ سے ملاقات چاہتا ہے۔

چناں چہ سوئے عرش سفر کی تیاریاں ہونے لگیں۔  سفر معراج کا سلسلہ شروع ہونے والا تھا - پہلے قلب اطہر کو زم زم سے دھویا گیا اور علم اور حکمت سے اسے بھر دیا گیا -  نبی رحمت کی بارگاہ میں براق حاضر کیا گیا جس پر حضور کو سوار ہونا تھا، مگر اللہ کے پیارے محبوب نے کچھ توقف فرمایا۔

جبرئیل امین نے اس پس و پیش کی وجہ دریافت کی تو آپ نے ارشاد فرمایا:

مجھ پر تو اللہ رب العزت کی اس قدر نوازشات ہیں، مگر روز قیامت میری امت کا کیا ہو گا؟ میری امت پل صراط سے کیسے گزرے گی؟ اسی وقت اللہ تعالٰی کی طرف سے بشارت دی گئی : اے محبوب، آپ امت کی فکر نہ کیجیے، ہم آپ کی امت کو پل صراط سے اس طرح گزار دیں گے کہ اسے خبر بھی نہیں ہو گی۔

اس واضح بشارت کے بعد سر کار دو عالم براق پر سوار ہو گئے۔ جبرئیل امین نے رکاب تھامی، میکائیل نے لگام پکڑی، اسرافیل نے زین سنبھالی جس کے ساتھ ہی پچاس ہزار فرشتوں کے سلام کی صدا سے آسمان گونج اٹھے۔

حدیث میں آیا ہے۔

براق کی تیز رفتاری کا یہ عالم تھا کہ جہاں تک نظر کی حد تھی، وہاں وہ قدم رکھتا تھا۔ براق کا سفر اس قدر تیز ی کے ساتھ ہوا کہ جس تک انسان کی عقل پہنچ ہی نہیں سکتی۔ ایسا لگتا تھا ہر طرف موسم بہار آگیا ہے۔ چاروں طرف نور ہی نور پھیلتا چلا گیا۔

اس سفر کے دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ سے مسجد اقصیٰ گئے اور وہاں تمام انبیائے کرام کی نماز کی امامت فرمائی۔ اس زمینی سفر کو اسرا کہتے ہیں یعنی سرعت کے ساتھہ کی جانے والا سفر -
 پھر مسجد اقصیٰ سے نوینی زینہ لگایا گیا اور  آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آسمانوں میں اللہ تعالٰی سے ملاقات کرنے تشریف لے گئے۔ وہاں اللہ تعالٰی نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جنت اور دوزخ دکھایا۔ وہاں آپ کی ملاقات مختلف انبیائے کرام سے بھی ہوئی -

شب اسرا و معراج پر دل کی ترجمانی کرتے ہوے دو عاجزانہ کلام کہنے کی سعادت اس خاکی بندے '' وسیم احمد خاکی'' نے حاصل کی جس میں سے ایک حاضر خدمت ہے -
یہ کلام کچھ پرانے اھلا'' لوورز کے لیے '' مکرر '' ہے -
  -

شب معراج ===
وسیم احمد خاکی
=======================
جب آپ تھے براق پر محو سفر
سو رہے تھے لوگ بستروں میں بے خبر

ملایک حیران تھے یہ دیکھ کر افلاک پر
کہ کیوں کھلا ہے آج عرش برین کا در

بولے جبریل ، جل جائیں گے انکے پر
بڑھے منتہی سے اگے انکے قدم اگر

پھر تنہا کیا آپ نے لا مکاں کا سفر
رہ گیا پیچھے کہیں وہ بیری کا شجر

پھر فایز ہوے آپ قابھ قوسین پر
اور رب نے کیا نماز کا تحفہ آپکی نذر

ساتھہ فرمایا جو کرے گا پنجگانہ کی قدر
اسکوملے گا دنیا و آخرت میں اسکا اجر

پھر کیا رب کا دیدار آپ نے بھر کے نظر
شب معراج جنتوں سے بھی ہوا اپکا گزر

یہ تھا تاریخ انسانی کا ایسا معجزاتی سفر
جس کی تعظیم میں تھم گےتھے سب بحر و بر
===============================================



LIST PAGE

NEXT PAGE

PREVIOUS PAGE