کعبہ مشرفہ کے اطراف کفن
 کی پرانی روایت
-
=============================

آج سے ساٹھہ ستر برس قبل تک ایسا ہوتا تھا اور یہ رسم قایم تھی کہ جو حاجی حج کرنے جاتا وہ وہاں زم زم سے اپنا کفن دھوتا اور اسے مطاف کی کچی زمین پر سوکھنے کے لیے پھیلا دیتا اور حاجیوں سے درخواست کرتا کہ وہ اس پر دوران طواف یا ویسے ہی گزریں تاکہ بعد از موت جب اسکو یہ کفن پہنا کر قبر میں لٹایا جایے تو اسے زم زم اور الله سبحان و تعالی کے گھر بلاے گیے مہمانوں کے قدوم کی برکات حاصل ہوں - اور اس کے کفن کو یہ اعزاز حاصل ہو کہ اسنے مطاف کی مٹی کا بوسہ لیا ہوا ہے اور اسکا اپنا جسم قبر میں اسی متبرک مٹی میں مدغم ہوکر مٹی مٹی ہو جایے -

اف کس قدر روح کو سکوں دینے والا یہ عمل ماضی کے مسلمانوں کو حاصل تھا - وہ واقعی خوش قسمت لوگ تھے -

اب یہ روایت نا پید ہے - مطاف میں کفن کو سکھانے یا زم زم سے اسے دھونے کا تصور محال ہے - تا ہم اکثر لوگ آج بھی الگ ، حرم سے باہر زم زم سے اپنے قبر کے لباس کو دھوتے ہیں لیکن یہ اچھی روایت اب دم توڑ رہی ہے اور مطاف میں کفن کو سکھانے والی روایت تو اب مکمل طور سے دم توڑ چکی ہے جیسا کہ اس تصویر میں دکھایا گیا ہے -

('' جستجو مدینہ '' کا شکریہ جہاں سے یہ تصویر اھلا'' کا قارین کے لیے حاصل کی گئی)
=======================================
=




LIST PAGE

NEXT PAGE

PREVIOUS PAGE