سیدہ بی بی حاجرہ علیہ سلام اور سیدنا اسمٰعیل علیہ سلام کے
اجسام مبارکہ حطیم میں دفن ہیں -

 ( جاننے کے لیے زحمت کریں
 اور قدرے طویل مضمون ضرور پڑھیں)
===========================================



کعبہ مشرفہ کی شمالی دیوار کے ساتھہ جو ایک قوس نما احاطہ سا بنا ہوا ہے اسے حرف عام میں حطیم یا حجر اسمعیل کہتے ہیں اور عام طور سے اسکے بارے میں یہ تصور ہے کہ یہ کعبہ مشرفہ کا اندرنی حصّہ ہے جو اہل قریش کی تعمیر کے وقت جایز سرمایے کی کمی وجہ سے تعمیر نہ ہوسکا اور کعبہ مشرفہ کے باہر ہی رہ گیا اور اس کی حدود کا تعین کرنے کے لیےکہ یہ کعبہ کا اندرونی حصہ ہے اس کے گرد ایک قوس نما دیوار بنا دی گئی تاکہ طواف کرنے والے اس کے باہر سے طواف کریں اور دوران طواف وہ کعبہ کی حدود کے اندر نہ آجائیں کیوں کہ طواف کعبہ کی حدود کے باہر سے کرنا ہوتا ہے - یہ قوس نما دیوار آپکو اس تصویر میں نظر آرہی ہے اور اس کے باہر سے لوگ طواف بھی کر رہے ہیں - اس کے بارے میں ایک تصور یہ بھی جو بالکل درست ہے کہ اس قوس نما دیوار کے اندر یعنی حطیم میں جو نفل نماز ادا کرتا ہے اسکا عمل بالکل ایسا ہے جیسا کہ کسی نے کعبہ شریف کے اندر نماز پڑھی -

آج کل کا حطیم انتہائی خوبصورت ٹھنڈے سفید ماربل کے سلیبوں ( SLABS ) سے مزین ہے لیکن آج کے زائرین اس کے اندر موجود کچھہ عظیم مقامات کی زیارت سے اب محروم ہیں - اگر انکو حطیم میں موجود ان گوشوں کا علم ہے بھی تو وہ ان گوشوں کی اصل لوکیشن سے بہرحال نا بلد ضرور ہیں - اسی لیے آج کے اھلا'' کویز میں ، آپ کی خدمت میں حطیم یا حجر اسماعیل کی ایک پرانی تصویر پیش کی جارہی ہے جس میں یہ متبرک اور عظیم گوشے نظر آ رہے ہیں -

اس تصویر میں حطیم کے اندر پہلی صف کی جگہ جہاں کچھ لوگ نماز پڑھتے بھی نظر آرہے ہیں ، فرش پر مصلے نما نشانات تواتر کے ساتھہ کندہ ہیں جن کو میں نے تواتر کے ساتھہ نیلے ڈاٹ لگا کر ظاہر کیا ہے -
اس کے علاوہ آپکو اس تصویر میں اس مصلے والی صف کے پیچھے سرخ ڈاٹ میں ایک لمبا مستطیل نشان نظر آرہا ہے اسکے ساتھہ ہی آپکو چھوٹا چوکور نشان بھی نظر آرہا ہے جسکو میں نے ''سبز ڈاٹ '' سے ظاہر کیا ہے -
حطیم یا حجر اسماعیل میں نیلے ڈاٹ کی یہ پوری صف ، سرخ ڈاٹ کا لمبا مستطیل نما نشان اور سبز ڈاٹ کا چھوٹا سا چوکور نشان کن اہم تاریخی اور متبرک گوشوں کی نشان دہی کر رہا ہے -
===================================
جواب پڑھیں پلیز
============
اصل میں حطیم یا حجر اسمعیل دو حصوں پر مشتعمل ہے - کعبہ مشرفہ کی وہ دیوار جس پر میزاب رحمت یعنی چھت سے پانی گرنے کا پر نالہ لگا ہے . وہاں سے لیکر تین اعشاریہ ایک میٹر حطیم کے اندر کا حصہ , اصل میں کعبہ کا اندرونی حصہ ہے جو قریش کی تعمیر کے وقت جائز اور حلال رقم نہ ہونے کی وجہ سے کعبہ مشرفہ میں شامل نہ کیا جا سکا -
- بقیہ پورا حطیم قوس نما دیوار تک کعبہ کا اندرونی حصہ نہیں ہے بلکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں بی بی سیدہ ہاجرہ اپنے بیٹے سیدنا اسمعیل علیہ سلام کے ساتھہ رہایش پزیر تھیں - اس مقام پر ان دونون ماں بیٹیوں اور انکی بکریوں کے لیے پیلو کی لکڑیوں اور کھجور کی شاخوں سے ایک جھونپڑی بنائی گئی تھی اور یہ دونوں ہستیاں اپنے حجرے میں رہا کرتی تھیں --- کیا خوب رہائش تھی ---- جو میرے اللہ نے ان دونوں ہستیوں کے مقدر میں لکھی تھی - رشک کرتے ہیں محلوں . دو محلوں میں رہنے والے اس جھونپڑے پر -
واضح رہے سیدہ بی بی حاجرہ کی زندگی تک کعبہ مشرفہ تعمیر نہیں ہوا تھا - کعبہ مشرفہ جو سیدنا آدم علیہ سلام کے وقت میں تعمیر تھا ہوا تھا اسکی وہ بنیادیں اسوقت تک معدوم ہو چکی تھیں اور کسی کے علم میں نہیں تھیں لیکن سیدہ بی بی حاجرہ حطیم کی جانب والی دیوار جو ظاہر ہے اس وقت موجود نہیں تھیں رہایش پزیر تھیں اور ساتھ ہی چند قدم کے فاصلے پر زم زم کا چشمہ موجود تھا - پھر انکی وفات ہوئی اور حجر اسماعیل میں ہی دفن کر دی گئیں -

ہاں انکی وفات کے کئی سالوں بعد جب انکے خاوند سیدنا ابراہیم علیہ سلام دوبارہ مکّہ تشریف لایے تو آپکو کعبہ مشرفہ کی معدوم بنیادوں کے بارے میں الله سبحان و تعالی نے فرشتے جبریل علیہ سلام کے ذریے آگاہی فرمائی تو آپ نے اپنے فرزند سیدنا اسمٰعیل علیہ سلام کے ساتھ مل کر کعبہ مشرفہ دوبارہ تعمیر کیا تو '' حجر اسمعیل '' یعنی سیدنا اسمٰعیل علیہ سلام کا حجرہ یا چھپر کعبہ مشرفہ کی مشرفہ شرقی دیوار سے بالکل متصل ہوگیا اور سیدنا اسمعیل علیہ سلام سالوں کعبہ مشرفہ کی اس دیوار ساتھ ٹیک لگایے اپنی زندگی بسر کر تے رہے - اور ساتھہ ہی انکی والدہ کی قبر بھی وہاں موجود رہی --

بی بی سیدہ ہاجرہ اور سیدنا اسمعیل علیہ سلام کا حجرے یا جھونپڑے کو '' حجر اسمعیل '' کہتے ہیں - اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ کعبہ کی دیوار سے تین اعشاریہ ایک میٹر کا حصہ اصل حطیم یعنی کعبہ کا اندرونی حصہ ہے جبکہ باقی پورا حصہ ، قوس نما دیوار تک '' حجر اسماعیل ''ہے -

اہل قریش کی تعمیر کے وقت وہ دیوار اس جگہ سے نہ اٹھائی جا سکی جو بی بی سیدہ ہاجرہ اور سیدنا اسمعیل علیہ سلام کے حجرے سے بالکل ملی ہوئی تھی اور جس سے ٹیک لگا کر سیدنا اسمٰعیل علیہ سلام بیٹھا کرتے تھے - بلکہ یہ دیوار کعبہ کی اصل حدود سے تین اعشاریہ ایک میٹر پہلے ہی کھڑی کردی گئی جو ہمیں آج کی تصویر میں بھی نظر آ رہی ہے - اس سے ہوا یہ کہ کعبہ کا تین اعشاریہ ایک میٹر کا اندرونی حصہ خود بخود حجر اسمعیل میں شامل ہوگیا - اور اس طرح حطیم اور حجر اسماعیل ایک دوسرے میں مدغم ہوگیے جو آج تک ہیں - اسی لیے کچھ لوگ اسے حطیم اور کچھ '' حجر اسماعیل کہ دیتے ہیں -


ایک بات کی وضاحت اور ضروری ہے کہ اہل قریش کی تعمیر سے قبل کعبہ مشرفہ پر چھت نہیں تھی اور اہل قریش اس پر پہلی مرتبہ چھت ڈالنا چاہتے تھے لیکن جائز اور حلال سرمایہ اتنا نہیں تھا کہ پورے کعبہ مشرفہ کی چھت ڈالی جا سکے ، اس لیے ایک جانب سے کعبہ کی دیوار اصل کعبہ کی حدود سے تین اعشاریہ ایک میٹر پہلے ہی کھڑی کر دی گئی - اس دیوار کو آپ اس تصویر میں بھی دیکھ رہے ہیں - یہ دیوار کعبہ کی اصل بنیاد پر قایم نہیں ہے اور اصل بنیاد کعبہ کے باہر حطیم میں تین اعشاریہ ایک میٹر کے فاصلے پر ہے - اس پرانی تصویر میں حطیم کے اس پورے حصے پر مصلے کے نشانات کندہ نظر آ رہے ہیں جو اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ حطیم کا صرف یہ حصہ اصل میں کعبہ کا اندرونی حصہ -
اور کعبہ مشرفہ کی یہ دیوار اگر اصل مقام پر اٹھائی جاتی تو یہ مقام وہ ہوتا جہاں صف پر بنے مصلوں کے نشانات ہیں - اور یہ مصلے اس بات کی نشان دہی کر رہے ہیں کہ حطیم کی اس صف یا مصلوں پر اگر آپ اپنی جبینیں سجدہ ریز کریں گے تو آپ کعبہ مشرفہ کے اندر متصور کیے جائیں گے اور اگر آپ اس سے پیچھے ہوں گے تو آپ کعبہ مشرفہ کے اندر نہیں بلکہ حجر اسماعیل میں متصور کیے جائیں گے -
اس صف یا مصلوں کو میں نے تواتر کے ساتھہ نیلے ڈاٹ سے ظاہر کیا ہے - تو پہلے سوال کا جواب تو یہ
ہوا کہ تواتر سے پڑے نیلے ڈاٹ کعبہ مشرفہ کے اندرونی حصے کی نشان دھی کر رہے ہیں - موجودہ حطیم میں اب کوئی ایسی نشانی موجود نہیں -- بس آپ اھلا'' کی تصویر کو دیکھ کر آپ تصور باندہ سکتے ہیں اور حطیم میں جاکر اندازے سے اس جگہ کا تعین کر سکتے ہیں -
اس حطیم میں دو اور مبارک مقامات ہے جنکی تفصیل کچھ فون ہے :-
سیدنا اسماعیل علیہ سلام کی عمر مبارک ابھی پندرہ سال تھی کہ آپکی والدہ سیدہ بی بی ہاجرہ کا انتقال ہوگیا تو آپکی تدفین حجر اسمعیل میں ہی کر دیگی - یاد رہے اس وقت تک کعبہ مشرفہ کی یہ دیوار نہیں تھی - ہرے رنگ کا ڈاٹ اسی قبر مبارک کی نشان دھی کر رہا
ہے -
- اس تد فین کے تقریبا'' ایک سو اکیس سال بعد جب سیدنا اسمعیل علیہ سلام کا انتقال 136 سال کی عمر مبارک میں ہوا تو آپکی تد فین بھی حجر اسمعیل میں اپنی والدہ کی قبر سے 63 انچ کے فاصلے پر میزاب رحمت کے عین نیچے کی گئی - یاد رہے اس وقت تک کعبہ مشرفہ کی یہ دیوار قایم ہو چکی تھی جو آپکو اس تصویر میں نظر آرہی ہے - لال رنگ کے ڈاٹ کے مقام پر جو مستطیل نما لمبا سا نشان نظر آ رہا ہے وہ سیدنا اسمعیل علیہ سلام کی تد فین کے مقام کی نشان دہی کر رہا ہے -
مشھور سیاح '' ابن بطوطہ '' اپنے سفر نامے میں مکّہ مکرمہ کی حاضری کا احوال لکھتے ہوے کہتا ہے '' حضرت اسمعیل علیہ سلام کی قبر پر ایک سبز مستطیل محرابی شکل کا سنگ مرمر لگایا گیا تھا جسکی چوڑائی تقریبا'' 14 انچ تھی - اس سے تقریبا''
63 انچ کے فاصلے پر رکن عراقی کی جانب بی بی ہاجرہ بھی استراحت گزین ہیں - - انکی قبر پر سبز گول رنگ کا سنگ مر مر لگا ہے '' -
ابن بطوطہ ١٣٧٨(1378) عیسوی میں انتقال کر گیے - گویا انکا یہ سفر نامہ ساڑھے چھہ سو سال پرانے جسکا تراشہ میں نے اوپر تصویر کے ساتھ بھی لگا دیا ہے تا کہ اب بطور حوالہ اس کو دیکھ لیں -


Hateem is actually the inner part of kaba + shelter of Ismael A.S  and because of this fact the tawaf is
done out side hateem .
 
In green showing inner portion of Kaba where the two holy graves exist.
 
In blue it is shelter of syedna ismael, never remained in side kabba.
(Red dot wall is just imaginary to understand position.

=====================================




LIST PAGE

NEXT PAGE

PREVIOUS PAGE