ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی الله تعالی عنہا
کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی گئی تھی

 پر کیوں ؟

============================================

BIGGER SQURE SHOWING GRAVE OF UM-MUL MOMEENEEN SYEDA KHADEJA . R.A
AND SMALLER ONE IS OF HER INFANT CHILD .

کیا آپ کے علم ہے کہ آپکی نماز جنازہ نہیں پڑھائی گئی تھی کیوں کہ اسوقت تک نماز جنازہ سمیت پانچ وقت کی بھی نماز فرض نہیں ہوئے تھی - اسی طرح رمضان کا مہینہ ہونے کے باوجود کوئی فرض روزے سے بھی نہ تھا کیوں کہ اسوقت تک روزے بھی فرض نہیں ہوے تھے - حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خود جنازے میں شریک تھے - اسی سال رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے محبوب چچا '' جناب ابو طالب '' کی بھی رحلت ھوئی اور دو عظیم صدموں نے رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بہت مغموم کر دیا - اسی لیے اس سال کو '' عام الحزن '' یعنی غم کا سال کہا جاتا ہے

ز
یر نظر تصویر میں بڑی قبر ام المومینین سیدہ خدیجہ رضی الله تعالی عنہا کی ہے جب کہ چھوٹی قبر آپکے شیر خوار بیٹے کی ہے عالم شیرگی میں انتقال فرما گیے تھے - یہ قبور مکّہ کے مقدس قبرستان '' جنت المعلی '' میں ہیں -
==================================
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ
ان سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی کیونکہ انہوں نے ایمان لا کر اس وقت میرا ساتھ دیا جب کفار نے مجھ پر ظلم و ستم کی حد کر رکھی تھی، انہوں نے اس وقت میری مالی مدد کی جب دوسرے لوگوں نے مجھے اس سے محروم کر رکھا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے بطن سے مجھے اللہ تعالیٰ نے اولاد کی نعمت سے سرفراز فرمایا جب کہ میری کسی دوسری بیوی سے میری کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ ''
بعد میں مدنی حیات مبارک میں ایک اور صاحبزادے سیدنا ابراھیم رضی الله تعالی انہ پیدہ ہوے تھے جوکہ ماریہ قط
بیہ رضي اللہ تعالی عنہا سے تھے -


حضرت خدیجہ کی وفات مدینہ کی ہجرت اور نماز فرض ہونے سے پہلے اسی سال ہوئی جب حضرت ابوطالب کی وفات ہوئی۔ اس سال کو عام الحزن کا نام ملا۔ روایات کے مطابق انہیں جنت میں موتیوں سے تیار کردہ گھر ملے گا۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام نے ایک دن حاضر ہو کر حضرت خدیجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خدیجہ ہیں ان کا ساتھ اور کھانا پینا ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ رہے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں سلام بھیجا ہے اور میں بھی انہیں سلام کہتا ہوں۔ اس کے بعد حضرت جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کہا کہ انہیں بشارت دے دیجئے کہ اللہ نے ان کے لیے جنت میں ایک بڑا خوشنما اور پرسکون مکان تعمیر کرایا ہے۔ جس میں کوئی پتھر کا ستون نہیں ہے۔ یہی روایت امام مسلم نے حسن بن فضیل کے حوالے سے بھی بیان کی ہے۔۔۔ اسی روایت کو اسی طرح اسماعیل بن خالد کی روایت سے بخاری نے بھی بیان کیا ہے -




LIST PAGE

NEXT PAGE

PREVIOUS PAGE