مکان سیدنا امیر حمزہ رضی الله وتعالی عنہ
 بھی بس اب تصورات میں ہی رہ گیا ہے
===================================




سیدنا امیر حمزہ رضی الله و تعالی عنہ ، رسول مکرم سیدنا محمد صلی الله علیہ وسلم کے چچا تھے - رسول مکرم سیدنا محمد صلی الله علیہ وسلم کی صرف دو چچاؤں نے اسلام قبول کیا انمیں سے ایک آپ تھے - دوسرے چچا سیدنا عباس رضی الله و تعالی عنہ تھے جو مشرف بہ اسلام ہوے -

سیدنا امیر حمزہ رضی الله و تعالی عنہ بہت بہادر انسان تھے اور آپکی عظیم شہادت مدنی حیات میں غزوہ احد میں ہوئ اور آپکی شہادت اتنی عظیم اور مظلومانہ تھی کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے آپکو سید الشہدا کے لقب سے نوازا - زیر نظر مضمون میں آپکی شہادت کو بیان کرنا نہیں . اس لیے یہ موضوع انشا الله پھر کبھی -

آج آپ کے حلقہ بگوش اسلام ہونے کے واقعے اور اسے جڑی تصویر آپکی خدمت میں پیش کرنا مقصود ہے -
آپ کا اسلام قبول کرنا ایک معجزاتی عمل تھا جس میں لگتا ہے الله کی تایید اس میں شامل تھی - بہرحال حضرت حمزہ كا قبول اسلام ايك سنگ ميل كى صورت اختيار كرگيا جس كے بارے ميں قريش نے سوچا بھى نہ تھا _اس واقعے سے حالات كى كايا پلٹ گئي اور قريش كى قوت پركارى ضرب لگي_ ان كے خطرات ميں اضافہ ہوا اوران كى سركشى ومنہ زورى كو لگام لگ گئي_
ايك دفعہ ابوجہل كوہ صفا كے پاس رسول صلی الله علیہ وسلم كے نزديك سے گزرا ،اس نے آپ صلی الله علیہ وسلم كو اذيت دى اور آپ صلی الله علیہ وسلم كو برا بھلا كہا ، نيز اسلام كى عيب جوئي اور امر رسالت كى برائي كرتے ہوئے آپ صلی الله علیہ وسلم كى شان اقدس ميں گستاخى كي _ حضور اكرم صلی الله علیہ وسلم نے اس سے كوئي بات نہيں كي_

حضرت حمزہ رضی الله و تعالی عنہ شكار کا شوق رکھتے تھے - جب شكار سے لوٹتے تو پہلے خانہ كعبہ جاكر طواف كيا كرتے اور وہاں موجود افراد سے سلام وكلام كرتے اور پھر گھر لوٹتے تھے_

اس دن حضرت حمزہ رضی الله و تعالی عنہ شكار سے لوٹے ہى تھے كہ ايك عورت نے ابوجہل كى طرف سے رسول اكرم صلی الله علیہ وسلم كى بے ادبى كے بارے ميں انہيں بتايا_

حضرت حمزہ غضبناك ہوكر سيدھے مسجد الحرام آئے تو انہوں نے ابوجہل كو لوگوں كے ساتھ بيٹھے پايا _وہ اس كى طرف بڑھے ، جب قريب پہنچے تو اپنى كمان اٹھائي اور زور سے اس كے سر پردے مارى جس سے ابوجہل كا سر پھٹ گيا _پھر انہوں نے كہا اے ابوجہل كيا تم اس شخص كى ملامت كرتے ہو؟

لو ميں اس كے دين پرہوں اور وہى كہتا ہوں جو وہ كہتا ہے، اگر تم ميں طاقت ہے تو آؤ ميرا مقابلہ كرو_ان باتوں سے قبل ابوجہل نے ان كے سامنے عاجزى دكھائي اور گڑ گڑانے لگا ليكن انہوں نے قبول نہ كيا _بنى مخزوم كے افراد ابوجہل كى حمايت كيلئے كھڑے ہوگئے اور حضرت حمزہ سے كہا:'' ہم ديكھتے ہيں كہ تم نے اپنا دين بدل ديا ہے'' _حضرت حمزہ نے كہا ''ہان میں نے اپنا دين بدل ديا ہے '' - یہ سبب ڑے معجزاتی انداز میں ہوا جسمیں الله سبحان و تعالی کی حکمت نظر آتی ہے اور یوں سیدنا امیر حمزہ رضی الله و تعالی عنہ دین اسلام میں داخل ہو گیے اور آپ ٣٩ وین مسلمام تھے جو حلقہ بگوش اسلام ہوے - آپ کے اسلام قبول کرنے کے تین دن بعد مسلمانوں کو ایک اور کامیابی ملی جب سیدنا عمر رضی الله و تعالی عنہ نے بھی اسلام قبول کر لیے اور ان دو جری انسانوں کے اسلام کو قبول کرنے سے اسلام کو پھلنے پھولنے کو خوب موقع ملا -
زیر نظر تصویر میں آپکو مسجد حمزہ نظر آ رہی ہے دار اصل یہ وہ مکان تھا جس میں دین اسلام قبول کرنے کے وقت سیدنا امیر حمزہ رضی الله و تعالی عنہ رہائش پذیر تھے جسکو بعد میں مسجد بنا دیا گیا تھا - یہ مکان سن ٢٠١٣ تک موجود تھا - اب شاید جیدید تعمیرات کی وجھہ سے ختم کر دیا گیا ہے - یہ مقام مسجد الحرام سے چند قدم کے فاصلے پر محلہ مسفلہ میں تھا -
=========================


LIST PAGE

NEXT PAGE

PREVIOUS PAGE